Skip navigation |

کیتھ کی کہانی:

کیتھ جو ٹرسٹ کا رضا کار ہے حال ہی میں طویل عرصہ کی غیر حاضری کے بعدد دوبارہ ٹیم میں لوٹا ہے، جس کا اس دوران ہیپ سی کا علاج ہو رہا تھا۔ اس کا سروسز( جگر کی سوجن) مزید بگڑ گیا اور اس کو کٔی مشکلات کا سامنہ رہا، جس کے نتیجے میں اس کو جگر کا ٹرانسپلانٹ کروانا پڑا ۔ہم اس کے لیے بے حد خوش ہیں اور ہلیپ لایٔن کی جانب سے اسکو خوش آمدید کہتے ہیں۔اور شکرگزار ہیں کہ اس نے اور اسکی بیوی لین نے اپنے تجربات کو ہمارے ساتھ بانٹنے کے لیے وقت نکالا۔

عام طور پر امید کی جاتی ہے کہ جن لوگوں کوہیپ سی ہے ان کی تشخیص سروسز کے ہونے سے قبل ہو گیٔ ہو گی۔بد قسمتی سے کیتھ جیسی کہانیاں اور حالات اس وقت تک نمودار ہوتے رہیں گے جب تک ہیپ سی کی جانکاری اس حد تک نہیں بڑھتی کہ تمام وہ لوگ جن کو خطرہ ہے اس کے ہونے کا ٹسٹ نہیں کروا لیتے۔صرف برطانیہ میں ہی اندازاً 500,000لوگ یہ جانتے بھی نہیں کہ ان کو اس بیماری کا انفیکشن ہے۔جتنے طویل عرصہ تک کسی کو ہیپ سی رہے گاان کے جگر کا نقصان سروسز کی طرف بڑھے گا۔ خاص طور پر اگر وہ شراب نوشی بھی کرتے ہیں۔

جتنی جلدی اس کی تشخیص کی جاے اتنا ہی بہتر ہے۔لوگوں کو زندگی گزارنے کے طور طریقوں میں تبدیلی اور علاج کروانے کی سہولت کا موقع فراہم کیا جا سکتا ہے۔ بد قسمتی سے اگر ایک بار سروسز ہو جاے تو علاج کی کامیابی میں بڑی حد تک کمی آجاتی ہے۔اور اگر کامیاب ہو بھی جاے تو سروسز کا عمل جاری رہتا ہے۔ایک بار اگر جگر ڈیکمپوز ہو جاے، تو جگر کا ٹرانسپلانٹ ہی واحد علاج کا راستہ رہ جاتا ہے۔اور یہ بھی ضروری نہیں کہ اس وقت آپ ٹرانسپلانٹ کروانے کے لیے زندہ موجود بھی ہونگے یا نہیں۔

کیتھ کی کہانی:

انٹی وایٔرل علاج سے قبل میری بد ترین علامتوں میں شدید تکاوٹ جس نے ہر لمحہ میری روزمرّہ زندگی میں رکاوٹ ڈالی اور دماغ پر بادل کا چھا جانا یا دماغی دھندلاپن جس کی وجہ سے کویٔ بھی صاف سمجدار سوچ نا ممکن تھی۔ میں نے سوچا شاہد یہ بیماری کی وجہ سے تھا کیونکہ یہ بات نا میرے علم میں تھی نہ ہی ڈاکٹرز کی نظر سے گزری کہ پچھلے 40سال سے اس بیماری کا میرے جسم پر راج تھا۔ اس لیے یقیناً یہ آخری تشخیص کہ مجھے ہیپاٹیٹس سی جینو ٹایپ 1 ہے اور جگر کا سروسز اپنے آپ میں ایک بڑی جنگ تھی۔ میں نے سوچا اب حالات ٹھیک ہو رہے ہیں لیکن دوسری

طر ف جی پی بھی اس بیماری میں نمودار ہونے والی علامتوں سے بے خبر تھے۔مثلاً خون کی الٹی کا ہونا، ویرِسیز varicesسوجن والی ٹانگیں اورٹخنے یعنی اودیماoedemaاور تھکاوٹfatigue۔کیونکہ میں ماضی میں بے حد شراب نوشی کرتا تھا دوسرے کنسلٹنٹ نے عام فہم فیصلہ دیا کہ مجھے alcoholic liver diseaseیعنی شراب نوشی کی وجہ سے جگر کی بیماری ہے۔ایک بات پر میں زور دوں گا کہ جیسے ہی آپ کی بیماری کی تشخیص ہو تو جتنی جلدی ہو سکے آپ اس بیماری کے بارے جانکاری حاصل کریں اوراپنے جیون ساتھی، قریبی گھر کے افراد کو بھی بتاہیں۔ عام طور پر آپ خود اپنی بیماری کی صیحح جانچ پرٹال کر سکتے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے اور علاج کے اثر کا تعّین کر سکتے ہیں۔میں نے معلومات حاصل کرنے کے لیے انٹرنیٹ کا سہارا لیا۔اور جلد ہی اس بات کا اندازا ہوا کہ جہاں تک برطانیہ کا تعلق ہے تو اس بیماری پر بے شمار معلومات تھی، لیکن حد سے ذیادہ غیر یقینی اور کبھی کبھی بالکل غلط -۔جب مجھے ہیپ سی ٹرسٹ کا علم ہوا تو میں نے ہلیپ لایٔن پر کال کی، اور چارلز کور سے میری بات ہویٔ۔ اس نے میرے خوف کی تصدیق کی کہ میری بیماری خطرناک اور علامتیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کی میری بیماری آخر ی مراحل میں ہے۔ایک لحاظ سے یہ سکون کی بات تھی کہ اب میں اپنی بیماری کا صیحح طرح سے سامنہ کر سکتا تھا۔اور اس کے ساتھ کیسے رہنا ہے کہ بارے میں سچایٔ سے سوچ سکتا تھا۔

اس بات کو مدِّنظر رکھتے ہوے مجھے احساس ہوا کہ میری تکلیف کی علامتیں 1990کےآخری سالوں میں شروع ہویٔ ھیں، لیکن2000تک مجّھے کبھی بھی ہسپتال میں دیکھانے کا مشورہ نہیں دیا گیا تھا۔ میری تشخیص شراب نوشی کی ذیادتی کی وجہ سے جگر کی خرابی اور کھانے کی نالی میں سوزش بتایٔ گیٔ۔ مجھے مکمل طور پر شراب نوشی ترک کرنے کو کہا گیا۔ اور یہ کہ اگلے 6 ماہ میں حالات کا تجزیہ کیا جاے گا۔مذید نہ کویٔ ٹسٹ نہ کویٔ تحقیق کروایٔ گیٔ۔خوش قسمتّی سے میرا جی پی میری صحت کا خیال رکّھ رہا تھا۔اور وقتاً فوقتاً جگر کے ٹسٹ کر واتا رہا۔ ڈاکٹر کو فکر ہونے لگی کہ مسلسل 6سال تک شراب نوشی کو ترک کرنے کے باوجود میرے LFTلیور فنکشن ٹسٹ پہلے سے ذیادہ جگر میں خرابی بتا رہے تھے۔چنانچہ اُس نے مجّھے دوبارہ ہسپتال کے ماہرین کی طرف ریفر کر دیا۔

اپریل 2002میں آخر کار میری بیماری کی تشخیص ہپاٹیٹس سی بتایٔ گیٔ۔جو مجّھے پتہ چلا کہ تقریباً 40 سال پہلے میں متاثر ہوا تھا۔جگر کے بایٔ آپسی کروانے پر اس بات کے تصدیق ہو گیٔ کہ مجّھے شدید سروسز جگر کی سوزش ہے۔خو ش قسمتی سے میرا نام جگر کے ماہر ڈاکٹر ہپاتولوجسٹ کی لسٹ میں ڈال دیا گیا۔جو ہیپ سی کے بارے میں جانتا تھا۔یہ اُس کی دیکھ بھال اور توجہ تھی جو وہ ٹسٹ کرواتا۔ جیسے اینڈوسکوپی، الٹرا ساؤنڈ سکینز اور ادویات کہ میری کچھ اُمید بڑھی کہ کویٔ میری بیماری کو سمجھتا ہے۔اور ہر ممکن کوشش سے مجّھے ٹھیک کرنے کے لیے میرا حاضرِوقت علاج کیا جاے گا۔اس کے بعد سے میری صحت کو بڑی احتیاط سے دیکھا گیا۔اس وقت میرے کنسلٹنٹ اور جی پی کی سپورٹ اور تعاون نے میری مثبت سوچ رکھنے میں ایک اہم کردار ادا کیا۔اُن کے بغیر میں نہیں سمجھتا کہ میں اپنے آپ کو اانٹی واۂرل دوایٔ پیگی لیٹیڈ اور انٹرفیرون شروع کرنے کے لیے صحت مند سمجھتا تھا۔میں نے بہت اُمید کے ساتھ2004میں اپنا علاج شروع کروایا۔

2 ماہ کے اندر میں چلنے سے قاصر تھا۔میں پہلے بھی تھکاوٹ محسوس کرتا تھا، لیکن خون کی شدید کمی haemolytic aneamia جو ریباویرن Ribavirin کی وجہ سے تھی میرے لیے تباہ کن اثرات لایٔ۔کویٔ فاۂدہ نہ ہونے کی وجہ سے دوایٔ کی مقدار کم کی گیٔ۔اور میرے کنسلٹنٹ نے EPOشروع کرا دی۔یہ بہت مہنگی دوایٔ ہے اور بہت کم استعمال کی جاتی ہے۔سو اس کی ہمیں اجازت لینی پڑی۔اُمید کی جا رہی تھی کہ اس کے استعمال سے میرے خون کی کمی میں بہتری نظر آے گی۔لیکن بے شمار خوراکیں لینے کے باوجودکویٔ فاۂدہ نظر نہیں آ رہا تھا۔جس کی وجہ سے میرا ہیوموگلوبن 6.3تک گڑ چکّا تھا ۔عام طور پر مردوں میں اس کا لیول 13.5ہوتا ہے۔جس کا مطلب تھا مجھے خون کے ادارے کی طرف ریفر کیا جاے۔جہنوں نے مجّھے خون چڑھانے کا فیصلہ کیا۔یہ جاننے کے لیے کہ میرے خون کا لیول بڑھ کیوں نہی رہا میرے بون میرو کی بایٔ اپسی کی گٔی۔جس پر 37 ہفتوں پر میرا یہ علاج بند کیا گیا۔

اس میں کویٔ شک نہیں کہ علاج سخت اور تکلیف دہ ہے۔لیکن میں پھر بھی مشورہ دوں گا اگر یہ علاج آپ کے لیے تجویز کیا گیا ہے تو اس کو کروا کر دیکھیں۔اورجگر کوجتنے نقصان سے محفوظ کر سکتے ہیں کر لیں۔جو تعاون اور سپورٹ مجّھے ہسپتال سے دی گیٔ بہت اعلیٰ تھی۔لیکن آپ کو اس بات کا خیال رکّھنا چاہیے کہ اس کے علاوہ جو بھی سپورٹ آپ کوملنی چاہے اس کو حاصل کرنے کے لیے لڑنے کو بھی تیار رہیں۔

اب وقت مئی2005ہے۔جب تک ڈاکٹر میرے خون کے لیول سے خوش نہیں تھے وہ خون لگاتے رہے۔لیکن اب میرا سروسزمزید بگڑ چکّا تھااور میرے پیٹ میں پانی ascites سوجن oedemaخارش itchingیرقان jaundice وغیرہ کی شکایات رینے لگی۔ان سب تکالیف کی وجہ سے حاضردماغ رہنا مشکل ہونے لگا تھا۔حالانکہ اس وقت حاضر دماغ رہنے کی ذیادہ ضرورت تھی۔تاکہ اپنی ادویات لینے کا پتا رکّھا جاے۔ اس کے علاوہ اپنی خوراک میں نمک کا استعمال بھی کم کر دینا چاہے۔کسی کی مدد کے بغیر یہ سب سنبھالنا نا ممکن ہو جاتا۔ہر جگہ جانے کے لیے مجّھ کسی دوسرے کے ساتھ کی ضرورت پڑنے لگی اور میرا مستقبل تاریک نظر آنے لگا۔

لیکن ستمبر2005میں مجّھے دوبارہ اُمیدکی کرن نظر آنے لگی۔آخر کارہسپتال والوں نے میرے کنسلٹیٹ کی متواتر درخواست پر مجّھے ٹرانسپلانٹ کے پروگرام کے لیے ہسپتال میں داخل کر لیا۔اس وقت فکروپریشانی اپنا رنگ دیکھانے لگی۔ہم دونوں یعنی میں اورمیری جیون ساتھی نے سوچ لیا تھا کہ یہ محض رسمًا ہمیں بُلا رہے ہیں۔اپنے موجودہ حالات میں ہمت رکھنا اور اسے مذید اسی طرح گزارنااب نا ممکن تھا۔اس ٹرانسپلانٹ کے بغیر ہونے والے اختتام سے ہم دونوں خوفزدہ تھے۔

کچھ وقت کے بعد کنسلٹنٹ نے میرا انٹرویو لیا۔اورمجھے ہسپتال میں یہ جاننے کے لیے کہ میری موجودہ صحت کیسی ہے؟آیا میں سرجری کو برداشت کر سکوں گااور میرے ذندہ رہنے کی کتنی توقع ہے ،مجھے ہسپتال داخل کر لیا گیا۔اس کے لیے انہوں نے میرےبے شمار ٹسٹ کرواے جو لمبے چوڑے تھکا دینے والے تھے۔یہ تمام ٹسٹ ہفتہ بھر میں میرے ہسپتال رہتے ہوے کرواے گے۔اس قدر بیمار رینے کے باوجود ایک بار بھی اس بات کا اندیشہ نہ تھا کہ وہ مجھے ٹرانسپلانٹ کی فہرست میں شامل نہیں کریں گے۔جب مجھے ہسپتال سے فارغ کیا گیاتو میں لاؤنچ میں بیٹھااپنی ٹیکسی کا انتظار کر رہا تھا جب رجسٹرار نے آ کر مجھے کہا کہ مسلۂ یہ ہے کہ میں بظاہر اتنا بیمار نہیں ہوں ۔۔۔میں سمجھتا ہوں کہ اعضا کے عطیات کی کمی کی وجہ سے انہیں یہ مشکل فیصلے لینے پڑتے ہیں۔لیکن آپ یقین کر لیں مجھے ایسے لگا کہ میں کسی چٹھان سے ٹکرا گیا ہوں۔

میری حالت مزید خراب رہنے لگی۔ کسی کی موجودگی کے بغیر ہر وقت میری دیکھ بھال بہت بڑا مسلٔہ ہوتا۔کیونکہ اب میں اپنے لیے بہت کم کام کر سکتا تھا۔میں شاپنگ کرنا، کھانا بنانا، صفایٔ کرنا،دھونا دھلانا سب بھول جاتا تھا۔میں غسل کرنے کے لیے باتھ میں اندر باہر بھی نہیں ہو سکتا تھا، میں نہ اپنی جرابیں اور نہ اپنے جوتے خود پہن سکتا تھا،۔ میں کسی بھی موضوع ۔عام یا خاص پر گفتگو نہیں کر پاتا تھا۔لیکن سب سے اہم بات کہ میں اپنی ادویات لینے کی مقدار بھولنے لگا۔جو خود ایک بڑا مسلہ تھا۔مجھے اس بارے میں ذیادہ کچھ یاد نہں چنانچہ میرا یہاں بولنا بے معنی ہو گا۔اس کے بعد کیا ہوا میری جیون ساتھی آپ کو بتاے گی۔یہ بات اٹل ہے کہ آخر میں جیون ساتھی ہی یہ آخری ٹکڑے سنبھالتے ہیں۔یاد رہے کہ میں نے آپ کو اپنی بیماری کے متعلق پوری معلومات اور جنکاری رکھنے اور اُس کواپنے جیون ساتھی کے ساتھ بانٹنے پر کیا کہا تھا؟کیونکہ اس سے آپ کی جان بچ سکتی ہے۔

لِین کی کہانی:

شروع کے دنوں میں جب ہمیں کیتھ کی بیماری کا پتہ چلا تو ہمیں اس کے بارے میں کویٔ بھی جانکاری نہیں تھی کہ اس میں کیا ہوتا ہے۔بہرحال ہم دونوں کی شخصیا ت ایسی ہیں کہ کسی بھی مسلٔے میں ہم جاننا چاہتے ہیں کہ ہم کس کے ساتھ ڈیل کر رہے ہیں۔اس لیے ہم نے جلد ہی سوال پوچھنے شروع کر دیے تھے،کیتھ کے ہسپتال کا کنسلٹنٹ اپنے کام کے مصروف شیڈول کے درمیان اپنے جوابات کی تفصیل اس سے ذیادہ نہیں دے سکتا تھا۔کیتھ خود بھی انٹرنیٹ پر معلومات تلاش کرتا تھا، اور اس بات کا خیال رکھتا تھاکہ مجھ تک بھی ساری جانکاری پہنچے اور یہ بہت کارآمد ثابت ہویٔ۔

ستمبر2005۔مرض کی وجہ سے جب اس کی ذہنی صلاحیت متاثر ہونے لگی تو میں نے اس کے کھانے پینے میں احتیاط شروع کردی۔ہمیں بتایا کہ لکتلوزlactaloseکی خوراک کا خیال رکھنا بہت ضروری تھا تاکہ وہ باقاعدگی سے اپنے پاخانے کو انتڑیوں سے خارج کر سکے اور ہپاٹک انکیفالوپاتھی نہ ہو۔جگر کی وجہ سے غنودگی کا رہنا اور بات کا سمجھ نہ لگناhepatic encephalopathy۔ہمیں پتہ چلا کہ اس تکلیف میں بڑی آنٹ سے جزب کے گۓ ذہریلے مواد کی موجودگی کی وجہ سے دماغ صیحح طرح کام نہیں کرتا۔ ایک صحت مند شخص میں یہ عمل جگر سر انجام دیتا ہے۔ہم نے اس کی علامات کے بارے میں پڑھا جس میں غنودگی، بات کا سمجھ نہ آنا،عام کام کرنے میں دشواری۔ جیسے لکھنا وغیرہ،صیحح صاف نہ بول پانا اور آخر میں قومہ میں جانا۔ایسا خطرہ جس سے دور رہنا چاہیے۔

نومبر کی ایک اتوار2005کیتھ سارا دن اپنے بستر میں رہا جو کہ اس کی صحت خراب رہنے کے باوجودعام بات نہیں تھی۔کیونکہ ان دنوں اس کو اچھی نیند نہیں آ رہی تھی میں نے اس بات کو اتنا پریشان کن نہیں سمجھا۔جب وہ دوپہر تک اٹھا نہیں تو مجھے فکر ہویٔ کہ اس کو جگا کر دوایٔ دوں۔اس کی حرکت بہت سست تھی جیسے وہ ابھی بھی نیند میں تھا۔لیکن جیسے ہی میں نے اس کو لکٹالوز کی خوراک دی وہ بولنے لگا۔اور اپنے سرکو ہلاتے ہوے ایک لفظ بولا بد ذایٔقہ وہ بلکل اپنی شخصیت کے برعکس ایک ننھے بچےّ کی مانند لگا۔ ہمیں پتہ چلا کہ وہ لکٹالوذ کی تجویز کردہ خوراک کی آدھی مقدار لے رہا تھا۔ نوٹ کریں۔براۂ مہربانی اس بات کا خیال رکیں کہ جبencephalopathyہو تو ہم مریض کی کارکردگی پر انحصار نہیں کر سکتے۔

لیکن مجھے اس وقت فوراً اندازہ ہو گیا کہ مسلۂ کیا تھا۔میرے دماغ میں اس تکلیف کی علامتوں کے لسٹ گھومنے لگیں۔مجھے معلوم تھا کہ مجھے اس کو ہر حال میں ہسپتال پہنچانا تھا۔ لیکن پھر میں نے سوچا کہ آج اتوار ہے اگر میں نے ایمبولنس کو بلایا تو وہ لوکل ہسپتال کے A&Eمیں لے کر جایٔں گے۔ عام فہم بات تھی کہ اس وقت اس کی حالت کو فوری طور پر سمجھنے کے لیے کویٔ نہیں ہو گا اور نہ ہی کویٔ ماہرِ جگر۔اس وقت تک کیتھ بے ربط ہو رہا تھا اور اپنے جسم کی حرکت پر کنٹرول کھو رہا تھا۔ میں اس کو وہاں لے کر جانا چاہ رہی تھی جہاں آسانی سے اس کے کنسلٹنٹ سے رابطہ ہو سکے۔میں نے فوراً آوٹ آ ف اور جی۔پی سے رابطہ کیا اور اتنے میں کیتھ کے کپڑے بدلے اور ہسپتال کا بیگ تیار کرنے کی کوشش کی۔خوش قسمتی سے جی۔پی 45منٹ میں پہنچ گیا، اس نے نا صرف میری بات سنی بلکہ اس بات سے بھی متفق تھا کہ کیتھ کے لیے اس کے کنسلٹنٹ کی موجودگی ضروری تھی۔کیونکہ یہ درخواست میڈیکل پروفیشن کی طرف سے تھی فوری طور پر کیتھ کو ہسپتال لے کر جانے کے لیے ایمبولنس کا انتظام کیا گیا۔اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کو ہر ممکن بات کا علم ہوناضروری ہے کہ تکلیف کے اثرات کیا ہونگے چاہے کتنی پریشانی کیوں نہ ہو۔ مجھے یقین ہے ڈاکٹر کو اپنی تفصیل بتا دینے اور درخواست کرنے سے، جی۔پی کے تعاون اور مدد سے سب کچھ ٹھیک ہو گیا تھا۔ورنہ ہمA&Eیعنی غلط جگہ پر پہنچ جاتے جہان کسی کے پاس بھی ہماری مدد کے لیے صیحح معلومات نہیں تھی۔ہسپتال پہنچنے پر ہمیں سب قانونی قاغزی کاروایٔ کرنا پڑی جس کو کٔی گھنٹے لگ جاتے ہیں۔مجھے بچارے جونیٔر ڈاکٹر پر پریشانی تو ہویٔ جب میں اس کو ساری تفصیل بتا رہی تھی لیکن مجھے تسّلی تھی کہ وہاں لوگ تھے جن سے راہنمایٔ کے لیے وہ رابطہ کر سکتا تھا۔

مجھے کہنا پڑے گا اس کے بعد رات بہت مشکل گزری، اس وقت کیتھ اپنے ہواس میں نہیں تھا۔اس کو نہ معلوم تھا کہ وہ کہاں ہے نہ کہ کیا ہو رہا ہے۔اس کو جو کہا جا رہا تھا اس کی بھی سمجھ نہیں تھی۔اور نہ ہی وہ جواب دے پا رہا تھا۔اس کے ہاتھوں میں لیور فلاپ جگر کی وجہ سے ہاتھوں میں جھٹکے لگنا شروع ہو گٔے تھے۔اور وہ بستر پر بے چین ہلنے لگا۔آخر میں جب اسے وارڈ پر لے جایا گیا تواسے ڈراپ لگا دی گیٔ جسکو وہ مسلسل نکالنے کی کوشش میں تھا۔کیونکہ وہ غسل خانے میں جانا چاہ رہا تھا۔ہر طرف خون تھا۔وہ ساری رات بے چین اوپر نیچے آگے پیچھے بیت الخلا جانے کے لیے رہا۔اگر میں اس وقت وہاں ڈریپ کا خیال رکھنے کے لیے کہ وہ اپنی جگہ رہے نہ رہتی تو نا جانے کیا ہو جاتا۔میں جانتی ہوں میں نے ہسپتال کے قوانین کی شکنی کی ہے کیونکہ مجھے وہاں رہنے کی اجازت نہ تھی لیکن میں اسے اس حال میں چھوڑنے کی حامی نہیں بھر رہی تھی ماسوا اس کے کہ وہ مجھے تسلّی دیں کہ اس کے ساتھ کویٔ ہو گا۔ اس بات کی وہ مجھے اس لیے تسلّی نہیں دے رہے تھے کہ اس کا مطلب تھاایک شخص صرف اس کی دیکھ بھال کرے۔اور یہ ان کے لیے ممکن نہیں تھا۔ میرے لیے حقیقت میںencephalopathy

کا تجربہ بہت خوفناک رہا۔وہ شخص جس کو آپ جانتے ہیں وہاں نہیں اور اس بات کا یقین کرناکہ وہ لوٹ آے گا مشکل ہو جاتا ہے۔لیکن وقت پر علاج اور توجہ دی جا ہے تو لوٹ بھی آتے ہیں۔

صبح ہونے کو آ گیٔ تو کیتھ ذرا خاموش ہوا لیکن دوسری طرف یہ پریشانی تھی کہ کہیں وہ قومہ میں نہ چلا جاے۔ایسے میں اس کے کنسلٹنٹ کو دیکھ کر جو خوشی اور تسلّی مجھے ملی وہ نا قابلِ بیاں ہے۔چار دن کے علاج کے بعد کیتھ کو ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔لیکن یہ تو پہلی مرتبہ تھی۔ دو ہفتوں کے بعد مجھے پھر اس میں یہ علامتیں نظر آنے لگی۔ اس دفعہ میں ہرخلافِ معمول علامت کو دیکھ رہی تھی کیونکہ پہلی دفعہ کی تکلیف نے مجھے ہلا کر رکھ دیا تھا۔اس دفعہ میں اس کو دوست کی گاڑی میں ڈال کرسیدھا ہسپتال کےA&Eمیں لے گٔی۔راستے میں ہی اس کی حالت مذید بگڑنے لگی۔دوبارہ وہی A&Eکی فارمیلتیز، وہی سوال جواب، وہی انتظار اورو ہی پریشانی۔۔۔لیکن میں اس بات پر ذور دوں گی کہ اچھا ہے اگر آپ مریض کی تکلیف صیحح بیان کر سکیں، کنسلٹنٹ کا نام اور بوقتِ ضرورت کس ٹیم سے رابطہ کرنے کی تفصیل جانتے ہوں کیونکہ A&Eمیں موجود جونیٔر ڈاکٹرز سے امید نہیں کر سکتے کہ وہ جگر کی بیماری کی آخری استیج کے علاج سے آگاہ ہونگے۔اسکے علاوہ ان کو معلوم ہونا چاہے کہ کون سی ادویات استعمال ہو رہی ہیں، انہیں اپنے ساتھ ضرور لے کر جاہیں۔

اس مرتبہ کیتھ کا ہسپتال میں سی۔ٹی سکان کیا گیا،یہ دیکھنے کے لیے کہ مزید کویٔ سوجن تو نہیں۔اس کے علاوہ یہ طے کیا گیا کہ اسکی کھانے کی نالی میں موجود سوجی ہویٔ نالیوں کو بینڈکیا جاے۔ایک ہفتہ کے بعد اسکو ہسپتال سے اچھی صحت میں فارغ کیا گیا۔فارغ ہوتے ہوے اسکو بتایا گیا کہ علاج ختم ہونے کے 6 ماہ بعد کیے گےPCR ٹسٹ میں ہیپ سی کی بیماری بھر سے مثبت ہے۔جس کا مطلب تھا کہ انٹی وأیرل علاج کامیاب نہیں ہوا تھا۔حالات ٹھیک نہیں ہونے والے تھے۔ بھر جنوری 2006میں ہمیں ہسپتال سے خط آیا کہ وہ ٹرانسپلانٹ کے لیے دوبارہ حالات کا تجزیہ کریں گیے۔یہ ایک لحاظ سے خوشخبری تھی کیونکہ کیتھ بار بار ہسپتال مشکلات کی وجہ سے جا رہا تھا۔بعض اوقات مہینے میں کیٔ چکر لگ رہے تھے۔فروری کے درمیان اسکے کنسلٹنٹ کی درخواست پر اسکو دوبارہ ہسپتال داخل کیا گیا۔اور بھر ٹرانسفر کیا گیا۔اس دفعہ وہ بہت بیمار تھااور میں جانتی تھی کہ اس کا کنسلٹنٹ بھی پریشان ہے او ر فکر مند تھا کہ وہ بچ نہیں پاے گا۔اور آخر اسکا نام انہوں نے لیور کے ٹرانسپلانٹ کی فہرسٹ میں ڈال دیا۔

کیتھ:

اس وقت میں باقاعدگی سے اپنے کنسلٹنٹ کے پاس لیور کے کلینک جا رہا تھا۔مجھے دوبارہ ہسپتال داخل کیا گیاکیونکہ مجھے باؤٹس آ ف سپانٹینیوس بیکٹیریل پییریٹونیٹس اور ایکولایٔ انفیکشن ہونے لگے۔bouts of spontaneous bacterial peritonitisاور Ecoli infectionاسکے علاوہ مذید سکان اور خون کے ٹسٹ کروانے تھے۔ میر ی صحت ذیادہ خراب رہنے لگی۔یقین کریں مجھےکچھ بُرا ہونے کی فکر ہونے لگی کیونکہ عطیات کے لیے6 ماہ سے 1 سال کا عرصہ لگ رہا تھا۔اور پھر اعضا حاصل ہونے کی مقدارسے ذیادہ ان کے طلب گار مریض موجود ہیں۔

ہمیں اس میں کویٔ نقصان نہیں تھا سو ہم نے کسی بھی قسم کے جگر کی درخواست کو قبول کر لیا۔لیور ٹرانسپلانٹ ایجوکیشن سیشن اس کے متعلق معلومات دیتی ہے۔ارو ٹرانسپلانٹ کی فواہد و نقصانات کے بارے میں بھی بتاتی ہے۔ہم ہر دن کو ایک امید کے ساتھ گرارنے لگے۔مثلاً یہ کہ میرا اپنا جگر ختم ہونے سے پہلے مجھے نیا جگر مل جاے گا۔حیران کن بات ہے کہ ہم نے ہر دن رو کر اور پریشان ہو کر نہیں گزارہ۔میں کچھ ہفتے ٹھیک رہنے لگا۔اور تقریباً ۸ہفتے ٹھیک بھی رہا۔

پھر جون کے مہینے میں غیر یقینی طور پر ہمیں ہسپتال سے اطلاع آیٔ کہ ایمبولنس کا انتظام کیا گیا ہے اور وہ مجھے لینے آ رہی ہے۔یہ سب صرف ٹرانسپلانٹ کی ویٹنگ لسٹ پر نام ڈالنے کے6 ماہ بعد ہوا۔ شام4 بجے میں تھیٹر میں گیا اور دس بجے تک مجھے نیا جگر دے دیا گیا۔حالانکہ مجھے اگلے دن میں اس بات کا پتا چلا تھا۔

۳ہفتوں کے بعد میں واپس گھر آیا۔اس دوران کچھ ہلکی پھلکی پریشانیاں آہیں لیکن ذیادہ حالات ٹھیک رہے اور میں صحت یاب ہونے لگا۔مجھے ابھی بھی ہیپ سی ہے لیکن مستقبل کے لیے میری اُمید ذیادہ ہے۔